محترم قارئینِ کرام : حضرت امیر معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو یہ شرف بھی حاصل ہے کہ آپ رضی اللہ تعالٰی عنہ نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ و آلہ وسلّم کے کاتب تھے اور عام کتابت کے علاوہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم نے آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو کتابت وحی کی بھی ذمے داری عطا فرمائی ۔ (صحیح مسلم، جلد4، صفحہ نمبر1945، رقم2501)(صحیح ابن حان، جلد16، صفحہ نمبر189، رقم7209)(المعجم الکبیر للطبرانی، جلد13، صفحہ نمبر554، رقم14446- سند حسن)(مجمع الزوائد، جلد9، صفحہ نمبر357، رقم15924)(دلائل النبوۃ، جلد6، صفحہ نمبر243- قد صح عن ابن عباس)(تاریخ اسلام، جلد4، صفحہ نمبر309)(الشریعہ، جلد5، صفحہ نمبر2431)(المبسوط، جلد24، صفحہ نمبر47)(الاعتقاد، صفحہ نمبر43)(الحجۃ فی بیان المحجہ، جلد2، صفحہ نمبر570، رقم56)(الذخیرۃ، جلد1، صفحہ نمبر110)(الاباطیل والمناکیر، صفحہ116، رقم191)(کتاب الاربعین، صفحہ نمبر174،چشتی)(تاریخ دمشق الکبیر، جلد59،صفحہ نمبر55، رقم7510) (کشف المشکل، جلد2، صفحہ نمبر96)(الفخری فی الآداب، صفحہ نمبر109)(جامع المسانید، جلد8، صفحہ نمبر131، رقم1760)(الاعتصام، صفحہ نمبر239)(امتاع الاسماع، جلد12، صفحہ نمبر113)(تقریب التھذیب، صفحہ نمبر470، رقم675،چشتی)(عمدۃ القاری، جلد2، صفحہ نمبر73، رقم71)(المواھب اللدنیۃ، جلد1، صفحہ نمبر533)(ارشاد الساری، جلد1، صفحہ نمبر170، رقم71)(الصواعق المحرقہ، صفحہ نمبر355)(سمط النجوم، جلد3، صفحہ نمبر155)(تفسیر روح البیان، جلد1، صفحہ نمبر180)(فتاوی رضویہ جلد26، صفحہ نمبر492)(شان صحابہ، صفحہ نمبر32
کاتب وحی حضرت سیدنا امیر معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہما جن کے ہاتھ کا لکھا قرآن ہم مسلمان پڑھتے ہیں اسلامی تاریخ میں اس سے بڑھ کر اور کیا مقام ہوگا کہ جس کو اللہ نے (إِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّكْرَ وَإِنَّا لَهُ لَحَافِظُونَ) کے مصداق کے طور پر پسند فرما کر چن لیا! الا ان کے کہ جو اس قرآن میں مانے ہی نا ۔ حضرت سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے ہاتھ کے لکھے کچھ کتبے دیکھے جا سکتے ہیں ۔ پہلا کتبہ جو کہ تقریباً 40 ہجری کا ہے اور اس پر کندہ الفاظ کو ساتھ لکھ کر واضح کیا گیا ہے ۔ دوسرے کتبے میں کندہ الفاظ قرآن خاصے واضح ہیں اور یہ کتبہ بئیر حضرت سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ جو کہ طائف کے قریب ہے جہاں سے کہ یہ تختیاں ملی تھی ، (58 ہجری میں) اور اس کا نام حضرت سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے نام پر ہی رکھ دیا گیا اور آج بھی یہ وہاں طائف کے قریب صحیح سلامت موجود ہے ۔ بعد ازاں اس بیئر کی ملکیت بھی حضرت سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کی طرف منسوب ہوئی جس کی وجہ سے بئیر معاویہ (Dam of Muaviya r.a) نام معروف ہوا ۔ یہ تصویر 70ء کی دہائی کی تصویر ہے ۔ البتہ اس کتبے میں کچھ الفاظ کے رسم الخط معروف عربی رسم الخط یعنی جو قریش اور بدو قبائل میں زیادہ معروف تھا جس کو کہ کوفی رسم الخط کہتے ہیں، ان سے کچھ مختلف تھے ۔ ان کو حضرت سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے کوفی رسم الخط میں اپنی زیر نگرانی تبدیل کروا کر مصحف کی شکل میں مرتب کروایا ۔ یہ کام تقریباً 50 ہجری تک مکمل ہوگیا ۔ الفاظ کندہ ہونے کی بجاۓ روشنائی سے لکھے گئے ہیں اور رسم الخط بھی واضح ہے ۔ یہ اس وقت کے خام کاغذ پر لکھا گیا قرآن کا قلمی نسخہ ہے ۔ یہ مصحف حضرت سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ آج بھی یمن کے عجائب گھر میں موجود ہے جہاں سے کہ اس کی یہ تصویر لی گئی ہے ۔ ان تصاویر کی صحت کی دلیل کے لئے محدث عصر شیخ مصطفے الاعظمی رحمۃ اللہ علیہ کی کتاب The History of Quranic Text، وہ تحقیقی ریسرچ ورک کہ جس میں شیخ نے قرآن مجید کی روز اول سے آج تک لفظی و تحریری تاریخ کو دلائل سے بیان کر کے ثابت کیا ہے اور تاریخی و تصاویری ثبوت بھی فراہم کئے ہیں ، اور جہاں سے یہ تصاویر بھی حاصل کی گئی ہیں ، تاریخ چاہیے تو تاریخ لیں ! یہ ہے ہماری تاریخ ! اور اس کا روشن اور ناقابل فراموش باب اور ستارہ ہیں حضرت سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ رجال و سیر کی کتابوں میں نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کے کاتبوں کے نام ملتے ہیں ، مگر سب کے بارے میں یہ صراحت نہیں ملتی کہ کس نے کیا لکھا ۔ (قرآن کیسے جمع ہوا ص 37 مکتبہ اعلی حضرت لاہو اس سے اتنا تو واضح ہوگیا کہ سب کے نام ملتے ہیں مگر کس نے کونسی آیت کی کتابت کی اس کی صراحت نہیں ملتی ، اب ذرہ ان ہستیوں کے نام ملاحظہ فرمائیں جن کے نام کتابت وحی کے فرائض انجام دینے میں لکھے گئے ہیں 1 حضرت ابوبکر صد 2 حضرت فاروق اع 3 حضرت عثمان غ 4 مولا علی شیر خ 5 طلحہ بن عبید اللہ بن عثم 6 زبیر بن العوام بن خوی 7 سعد بن ابی وقاص ما 8 عامر بن فہی 9 ثابت بن قیس بن شم 10 خالد بن سعید بن العاص بن ام 11 ابان بن سعید بن العاص ام 12 حنظلہ بن الرب 13 ابو سفیان صخر بن ح 14 یزید بن ابو سفی 15 ( امیر )معاویہ بن ابی سفی 16 زید بن ثا 17 شرحبیل بن حس 18 علاء حضر 19 خالد بن ول 20 محمد بن مسلمہ انصا 21 عبداللہ بن رواحہ انصا 22 مغیرہ بن شع 23 عمرو بن العاص بن وائل قر 24 عبداللہ بن عبداللہ بن ابی بن سل 25 جہم بن سعد اسل 26 جہیم بن الص 27 ارقم بن ابی ارقم مخزو 28 عبداللہ بن زید بن عبد ربہ انصاری خزر 29 علاء بن اق 30 ابو ایوب انصا 31 حذیفہ بن یم 32 بریدہ بن ابن الحصیب ماز 33 حصین بن نمیر بن فا 34 عبداللہ بن ابی سرح س 35 ابو سلمہ بن عبد الاسد قر 36 حویطب بن عبد الع 37 حاطب بن عم 38 ابن خ 39 ابی بن ک 40 عبداللہ بن ارقم قر 41 معیقیب بن ابی فاطمہ رضی اللہ تعالی عنھم اجمعین ۔ (قرآن کیسے جمع ہوا صفحہ 38 تا 50 مکتبہ اعلی حضرت لاہو ان اسماء گرامی کو لکھنے کے بعد میں اعتراض کرنے والوں سے اسی کے طریقہ پر کہوں گا پوچھنا یہ تھا کہ ان میں سے ہر ایک ہستی نے قرآن کی کون کونسی آیت لکھی مزید یہ کہ ان میں سے ہر ایک نے کتنی کتنی ایات مبارکہ کی کتابت فرمائی بیچارے کیا جواب دینگے شائد انہوں نے کاتبان وحی کے اسماء گرامی ہی پہلی مرتبہ پڑھے ہوں ۔ جب جواب نہیں میں ہے اور یقینا نہیں میں ہے تو صرف حضرت سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے بارے اس طرح سوال کرنا بد بختی نہیں تو کیا ہے کیا یہ ان کی شان کتابت وحی کا منکر بنانے کا جال نہیں اے مسلمانانِ اہلسنّت ہشیار رہنا یہ رافضیت و تفضیلیت کی اندھا دھند یلغار ہے ۔ اندھے بلکہ جاہل معترضین کے لئے مزید چشم کشا علم بخش دوائی حاضر ہے ۔ کہ حضرت سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کاتب وحی تھے آپ کی اسی ذمہ داری کی بابت سیدنا عبد اللہ بن عباس بن عبد المطلب رضی اللہ تعالی عنھم فرماتے ہیں : و کان یکتب الوحی ، حضرت ( امیر) معاویہ رضی اللہ تعالی عنہ وحی لکھا کرتے تھے ، سیدنا ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہما کا یہ فرمان امام بیہقی (متوفی 458ھ) نے نقل کیا اور اس (قول) کے بارے میں امام ذہبی فرماتے ہیں : قد صح عن ابن عباس ، ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہما سے جو روایت ہے صحیح ہے ۔ (دلائل النبوۃ باب ما جاء فی دعائہ ، ج 6 ص 243،چشتی)(تاریخ الاسلام حرف المیم معاویہ بن ابی سفیان ج 4 ص 30 اسی شرف سے مشرف ہونے کی بنا پر جلیل المرتبت محدثین اور علماء ربانیین و اولیاء کاملین آپ کو کاتب وحی کہہ کر یاد کرتے رہے چند حوالے ملاحظہ فرمائیں حافظ ابوبکرمحمد بن حسین آجری بغدادی (متوفی 360ھ ) فرماتے ہیں : معاویۃ رحمہ اللہ کاتب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم علی وحی اللہ عزوجل وھو القرآن بامر اللہ عزوجل ، رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے کاتب سیدنا امیر معاویہ پر اللہ رحم فرمائے آپ اللہ کے حکم سے وحی الہی؛ قرآن پاک لکھا کرتے تھے ۔ (الشریعہ کتابت فضائل معاویۃ جلد نمبر 5 صفحہ نمبر 2431،چشت حافظ الکبیر امام ابو بکر احمد بن حسین خراسانی بیہقی (متوفی 458ھ) فرماتے ہیں : و کان یکتب الوحی ، سیدنا امیر معاویہ کاتب وحی تھے ۔ (دلائل النبوۃ ج6ص243 امام شمس الائمہ ابوبکر محمد بن سرخسی حنفی( متوفی 483 ھ) فرماتے ہیں : و کان کاتب الوحی ۔ (المبسوط کتاب الاکراہ ج 24 ص 4 امام قاضی ابو الحسین محمد بن محمد حنبلی(ابن ابی یعلی) (متوفی 526ھ) فرماتے ہیں : (معاویۃ) کاتب وحی رب العلمین ، حضرت سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ تمام جہانوں کے رب کی وحی کے کاتب تھے ۔ (الاعتقاد۔ الاعتقاد فی الصحابۃ ص4 امام حافظ ابو قاسم اسماعیل بن محمد قرشی طلیحی (قوام السنۃ) (متوفی 535) فرماتے ہیں : معاویۃ کاتب الوحی ۔ (الحجۃ فی بیان المحجۃ ج2 ص570 رقم 56 علامہ ابو الحسن علی بن بسام الشنترینی اندلسی (متوفی 542ھ) فرماتے ہیں : معاویۃ بن ابی سفیان کاتب الوحی ۔ (الذخیرۃ فی محاسن اہل الجزیرۃ ج1ص11 حافظ ابو عبداللہ حسین بن ابراھیم جوزقانی(متوفی 543ھ) فرماتے ہیں : (معاویۃ) کاتب الوحی ۔ (الاباطیل و المناکیر و الصحاح و المشاھیر باب فی فضائل معاویۃ ص116رقم 19 علامہ ابو الفتوح محمد بن محمد طائی ہمذانی (متوفی 555ھ) فرماتے ہیں : معاویۃ کاتب وحی رسول رب العلمین و معدن الحلم والحکم ، سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ تعالی عنہ رسول رب العلمین کے کاتب وحی اور حلم و دانائی کے کان تھے ۔ (کتاب الاربعین فی ارشاد السائرین ص 174 امام حافظ ابو القاسم علی بن حسن بن ہبۃ اللہ شافعی (ابن عساکر) (متوفی 571) فرماتے ہیں : (معاویۃ رضی اللہ تعالی عنہ) خال المؤمنین وکاتب وحی رب العلمین ، حضرت امیر معاویہ تمام مؤمنوں کے خالو ہیں اور تمام جہانوں کے رب کی وحی کے کاتب ہیں ۔ (تاریخ دمشق الکبیر ذکر من اسمہ معاویۃ ، معاویۃ بن ابی سفیان بن صخر ج59 ص55 رقم 751 امام حافظ جمال الدین ابو الفرج عبد الرحمن بن علی الجوزی (متوفی 497ھ) نے کشف المشکل میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے 12 کاتبوں کا تذکرہ کیا ہے ، جن میں حضرت سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ بھی ہیں ۔ (کشف المشکل ج2ص9 ابو جعفر محمد بن علی بن محمد ابن طباطبا علوی (ابن الطقطقی) (متوفی 709ھ) نے لکھا ہے : و اسلم معاویۃ و کتب الوحی فی جملۃ من کتبہ بین یدی الرسول ، اور حضرت سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ اسلام لائے اور ان سب میں رہکر کتابت کی جو رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کے حضور کتابت کرتے تھے ۔ (الفخری فی الآداب السلطانیۃ من سیرۃ معاویۃ ص 109،چشت حافظ عماد الدین اسماعیل بن عمر بن کثیر قرشی شافعی (متوفی 774) لکھتے ہیں : ثم کان ممن یکتب الوحی بین یدی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ، پھر (حضرت سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ) ان میں سے ہیں جو حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کے سامنے وحی لکھتے تھے ۔ (جامع المسانید والسنن الھادی ج8 ص 31 رقم 176 حافظ ابراھیم بن موسی مالکی شاطبی (متوفی 790ھ) نے بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے کتاب وحی میں سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ تعالی عنہ کا ذکر فرمایا ۔ (الاعتصام صفحہ نمبر 23 حافظ ابو الحسن نور الدین علی بن ابی بکر بن سلیمان ہیثمی (متوفی 807ھ) نے بھی رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم کے کُتّابِ وحی کے باب میں سیدنا امیر معاویہ کا تذکرہ کیا ہے ۔ (مجمع الزوائد باب فی کُتّاب الوحی ج 1 ص 53 رقم 68 علامہ تقی الدین ابو العباس احمد بن علی حسینی مقریزی (متوفی 845ھ) فرماتے ہیں : و کان یکتب الوحی ، حضرت سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کاتب وحی تھے ۔ (امتاع الاسماع اجابۃ اللہ دعوۃ الرسول ج12 ص 11 امام حافظ شہاب الدین احمد بن علی بن حجر عسقلانی شافعی (متوفی 852ھ) لکھتے ہیں : معاویۃ بن ابی سفیان ، الخلیفۃ صحابی اسلم قبل الفتح و کتب الوحی ، سیدنا امیر معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ تعالی عنہما خلیفہ ہیں صحابی ہیں آپ فتح مکہ سے پہلے اسلام لائے اور وحی کی کتابت فرمائی ۔ (تقریب التھذیب حرف المیم ص 470 رقم 675 امام حافظ بدرالدین ابو محمد محمود بن احمد عینی حنفی (متوفی 855) لکھتے ہیں : معاویۃ بن ابی سفیان صخر بن حرب الاموی کاتب الوحی ۔ (عمدۃ القاری شرح صحیح بخاری کتاب العلم باب من یرد اللہ بہ خیرا یفقہہ فی الدین ج 2ص73 رقم 7 علامہ شہاب الدین ابو العباس احمد بن محمد قسطلانی مصری شافعی (متوفی 923) لکھتے ہیں : و ھو مشھور بکتابۃ الوحی ، سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ تعالی عنہ مشہور کاتب وحی ہیں ۔ (المواھب اللدنیۃ الفصل السادس ج1 ص53 علامہ قسطلانی نے ارشاد الساری میں بھی لکھا ہے کہ : معاویۃ بن ابی سفیان بن صخر بن حرب کاتب الوحی لرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ذا المناقب الجمعۃ ۔ (ارشاد الساری شرح صحیح بخاری کتاب العلم باب من یرد اللہ ج1ص170 رقم 7 امام حافظ شہاب الدین ابو العباس احمد بن محمد (ابن حجر) ہیتمی مکی شافعی (متوفی 974ھ) لکھتے ہیں : معاویۃ بن ابی سفیان اخی ام حبیبۃ زوجۃ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کاتب الوحی ، حضرت سیدنا امیر معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ تعالی عنہ سیدہ ام حبیبہ زوجہ رسول رضی اللہ تعالی عنھا و صلی اللہ علیہ وسلم کے بھائی اور کاتب وحی ہیں ۔ (الصواعق المحرقہ صفحہ نمبر 355،چشت علامہ عبد الملک بن حسین بن عبد الملک عاصمی مکی (متوفی 1111ھ) نے لکھا ہے : معاویۃ و کان یکتب الوحی ۔ (سمط النجوم العوالی ج3ص 5 علامہ اسماعیل بن مصطفیٰ حقی حنفی (متوفی 1127ھ) لکھتے ہیں : معاویۃ رضی اللہ تعالی عنہ کاتب الوحی ۔ (تفسیر روح البیان جزء 1 تحت سورۃ بقرۃ ایت 90 ج 1 ص 18 امام اہل سنت مجدد دین و ملت الشّاہ احمد رضا خان قادری رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں : حضور اقدس صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم پر قرآن عظیم کی عبارت کریمہ نازل ہوتی عبارت میں اعراب نہیں لگائے جاتے (تھے) حضور کے حکم سے صحابہ کرام مثل : امیر المؤمنین عثمان غنی و حضرت زید بن ثابت و امیر معاویہ وغیرہم رضی اللہ تعالی عنہم اسے لکھتے ؛ ان کی تحریر میں بھی اعراب نہ تھے ، یہ تابعین کے زمانے سے رائج ہوئے ، اللہ تعالی اعلم ۔ (العطایا النبویۃ فی الفتاوی الرضویۃ ج26 ص 492/49 شارح بخاری علامہ سید محمود احمد بن سید ابو البرکات احمد بن سید دیدار علی شاہ محدث الوری حنفی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں : ایمان لانے کے بعد حضرت معاویہ رضی اللہ تعالی عنہ خدمت نبوی سے جدا نہ ہوئے ہما وقت پاس رہتے اور وحی الہی کی کتابت کرتے ۔ (شان صحابہ ؛ امیر معاویہ رضی اللہ تعالی عنہ کے دل میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا احترام ص3 نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ و صحبہ وسلّم نےحضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کو جبرائیل علیہ السّلام سے مشورہ کے بعد کاتب وحی بنایا جبرائیل علیہ السّلام نے عرض کیا کیوں نہیں وہ امین ہیں ۔ (تاریخ ابن کثیر مترجم حصّہ ہفتم ، ہشتم صفحہ 15 حضرت امیر معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کاتب وحی تھے (معانی الاخبار صفحہ 394 شیعہ مصنف شیخ صدوق کا انتہائی گستاخانہ انداز میں مجبورا اقرار) سنیوں کے لبادے میں چھپے رافضی منکر اب کیا کہتے ہیں حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کاتب وحی اور اُمتِ رسول (صلی اللہ علیہ و آلہ و صحبہ وسلّم) کے ماموں ہیں ۔ (تاریخ مدینہ دمشق الجزء التّاسع و الخمسون صفحہ 5 حضرت امیر معاویہ رضی اللہ اُمتِ مُسلمہ کے ماموں اور رب العالمین کی وحی کے کاتب ہیں دیگر کاتبان وحی کے ساتھ وحی لکھتے تھے ۔ (تاریخ ابن کثیر جلد نمبر ہفتم ، ہشتم صفحہ نمبر 33،چشت نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ و صحبہ وسلّم خود حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کو وحی لکھواتے حروف بتاتے یہ ایسے ایسے لکھو ۔ (تفسیر دُرِّ منثور جلد اوّل صفحہ نمبر 45 مترجم اردو حضرت شیخ عبد الحق محدث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں : حضرت امیر معاویہ رضی اللہ فتح مکہ سے پہلے اسلام لائے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ و صحبہ وسلّم کے خطوط اور وحی الٰہی لکھا کرتے تھے ۔ (مدارج النبوت جلد دوم صفحہ نمبر 620 حضرت شیخ عبد الحق محدث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ مترجم مطبوعہ شبیر برادرز اردو بازار لاہو امام قاضی عیاض مالکی رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں : حضرت عمر بن عبد العزیز رضی اللہ عنہ نے فرمایا حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ صحابی رسول (صلی اللہ علیہ و آلہ و صحبہ وسلّم ) اور کاتب وحی اور وحی الٰہی کے امین ہیں صحابہ رضی اللہ عنہم کو دوسروں پر قیاس مت کرو ۔ (کتاب الشفا مترجم اردو جلد نمبر 1 صفحہ نمبر6 نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم نے حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کو جبرائیل امین علیہ السّلام کے مشورے سے کاتبِ وحی بنایا جبرائیل امین علیہ السّلام نے عرض کیا معاویہ امانت دار ہے ، نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم نے حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کےلیئے دعائیں فرمائیں اور فرما یا اے معاویہ میں تم سے ہوں اور تُم مجھ سے ہو تم میرے ساتھ جنّت میں ہوگے ۔ (سیرتِ حلبیہ مترجم اردو جلد نمبر 5 صفحہ 289 مطبوعہ دارالاشاعت اردو بازار کراچی،چشت شیخ الاسلام منھاج القرآن جناب ڈاکٹر محمد طاہرُ القادری صاحب لکھتے ہیں : کتابتِ وحی کے لیے حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کے علاوہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بہت سے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو بھی مقرر فرمایا ہوا تھا، جو حسب ضرورت کتابتِ وحی کے فرائض انجام دیتے تھے، کاتبین وحی کی تعداد چالیس تک شمار کی گئی ہے۔ لیکن ان میں سے زیادہ مشہور یہ حضرات ہیں حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ، حضرت عمر رضی اللہ عنہ، حضرت عثمان رضی اللہ عنہ، حضرت علی رضی اللہ عنہ، حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ، حضرت عبد اللہ بن ابی سرح رضی اللہ عنہ، حضرت زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ، حضرت خالد بن سعید بن العاص رضی اللہ عنہ، حضرت ابان بن سعید بن العاص رضی اللہ عنہ، حضرت حنظلہ ابن الربیع رضی اللہ عنہ، حضرت معقیب بن ابی فاطمہ رضی اللہ عنہ، حضرت عبد اللہ بن ارقم الزہری رضی اللہ عنہ، حضرت شرجیل بن حسنہ رضی اللہ عنہ، حضرت عبد اللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ، حضرت عامر بن فہیرہ رضی اللہ عنہ، حضرت عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ، حضرت ثابت بن قیس بن شماس رضی اللہ عنہ، حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ، حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ، حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ، حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا معمول یہ تھا کہ جب قرآن کریم کا کوئی حصہ نازل ہوتا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کاتب وحی کو یہ ہدایت بھی فرما دیتے تھے کہ اسے فلاں سورۃ میں فلاں آیات کے بعد لکھا جائے، چنانچہ اسے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ہدایت کے مطابق لکھ لیا جاتا تھا، قرآنی آیات زیادہ تر پتھر کی سلوں، اور چمڑے کے پارچوں، کھجور کی شاخوں، بانس کے ٹکڑوں، درخت کے پتوں اور جانوروں کی ہڈیوں پر لکھی جاتی تھیں، البتہ کبھی کبھی کاغذ کے ٹکڑے بھی استعمال کئے گئے ہیں ۔ (عسقلانی، فتح الباری، 9 : 18،چشتی)۔(سیرۃُ الرّسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی شخصی و رِسالتی اہمیت صفحہ 5 حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کاتبِ وحی ، عظیم المرتب صحابی اور تمام اہلِ اسلام کے ماموں ہیں مفتی عبدالقیوم خان ہزاروی مفتی منہاج القرآن کا فتو حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے عظیم المرتبت صحابی ہیں ، کاتب وحی ہیں ۔ ام المومنین ام حبیبہ رضی اللہ عنہ کے بھائی ہیں ۔ اس لحاظ سے تمام اہل اسلام کے قابل صد تکریم روحانی ماموں ہیں ۔ لہذا کوئی مسلمان ان کی شان میں گستاخی کا تصور بھی نہیں کرسکتا اور جو گستاخی کرے وہ مسلمان نہیں ہوسکتا ۔ (ماہنامہ منہاج القرآن جنوری 2013 ء الفقہ آپ کے دینی مسائل،چشت یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم آپ معاویہ رضی اللہ عنہ کو اپنا کاتب مقرر فرمائیں گے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم سے عرض کیا گیا کہ : ومعاوية، تجعله كاتبا بين يديك ؟ ترجمہ : کیا آپ معاویہ رضی اللہ عنہ کو اپنا کاتب مقرر فرمائیں گے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم نے فرمایا : جی ہاں ۔ )صحيح مسلم : 304/2، ح : 250 ایک روایت میں ہے : وكان يكتب الوحي ترجمہ : معاویہ رضی اللہ عنہ کاتب وحی تھے ۔ (دلائل النبوة للبيهقي : 243/6، وسنده صحيح تبع تابعی ، شیخ الاسلام ، معافی بن عمران رحمۃ اللہ علیہ (م : 186/185 ھ) فرماتے ہیں : معاوية ، صاحبه ، وصهره ، وكاتبه ، وأمينه علٰي وحي الله ترجمہ : سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کے صحابی ، آپ کے سالے ، آپ کے کاتب اور اللہ کی وحی کے سلسلے میں آپ کے امین تھے ۔ (تاريخ بغداد للخطيب : 209/1،چشتی)(تاريخ ابن عساكر : 208/59، البداية والنهاية لابن كثير : 148/8، وسنده صحيح امام حافظ ابن عساکر رحمۃ اللہ علیہ (571-499 ھ) فرماتے ہیں : وأصح فى فضل معاوية حديث أبي جمرة عن ابن عباس، أنه كان كاتب النبى صلى الله عليه وسلم منذ أسلم ترجمہ : حضرت سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کی فضیلت میں اصح حدیث ابوجمرہ کی سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے بیان کردہ ہے کہ آپ رضی اللہ عنہ جب سے اسلام لائے ، نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کے کاتب تھے ۔ (البداية والنهاية لابن كثير : 128/8 امام ابومنصور معمر بن احمد اصبہانی رحمۃ اللہ علیہ (م : 428 ھ) اہلسنت کا اجماعی عقیدہ بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں : وأن معاوية بن أبي سفيان كاتب وحي الله وأمينه، ورديف رسول الله صلى الله عليه وسلم، وخال المؤمنين رضي الله عنه ترجمہ : سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کو وحی الٰہی کے کاتب و امین ہونے ، نبی کریم اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کے ساتھ ایک سواری پر سوار ہونے اور مؤمنوں کے ماموں ہونے کا شرف حاصل ہے ۔ (الحجة فى بيان المحجة للإمام قوام السنة أبي القاسم إسماعيل بن محمد الأصبهاني : 248/1، وسنده صحيح امام ابن قدامہ مقدسی حنبلی رحمۃ اللہ علیہ (م : 620 ھ) مسلمانوں کا عقیدہ یوں بیان فرماتے ہیں : ومعاوية خال المؤمنين، وكاتب وحي الله، وأحد خلفاء المسلمين ترجمہ : سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ مؤمنوں کے ماموں ، کاتب وحی الٰہی اور مسلمانوں کے ایک خلیفہ تھے ۔ (لمعة الاعتقاد صفحہ نمبر 33)۔(طالبِ دعا و دعا گو ڈاکٹر فیض احمد چشتی [7/5, 7:30 AM] +91 90964 09831: حضرت عبداللہ بن مسعودؓ کی زبانی افضیلیت حضرت ابو بکر صدیق (superiority of Abubakar) پر حضرت عمر بن خطابؓ کا استدلال اور دیگر صحابہؓ کی شہادت ! تحریر : اسد الطحاوی الحنفی البریلوی امام الآجری اپنی سند حدثنا أبو الفضل العباس بن علي بن العباس النسائي قال حدثنا مشرف بن سعيد الواسطي قال: حدثنا أحمد بن داود أبو سعيد قال: حدثنا محمد بن يزيد الواسطي , عن إسماعيل بن أبي خالد , عن زر , عن عبد الله بن مسعود قا " كان رجوع الأنصار يوم سقيفة بني ساعدة بكلام قاله عمر رضي الله عنه: ألستم تعلمون أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قدم أبا بكر فصلى بالناس؟ قالوا: اللهم نعم قال: فأيكم تطيب نفسه أن يتقدم أبا بكر؟ قالوا: كلنا لا تطيب نفسه نحن نستغفر الله عز وجل حضرت عبداللہ بن مسعودؓ فرماتے ہیں سقیفہ بنو ساعد کے دن انصار نے اس کلام کی طرف رجوع کیا تھا جو حضرت عمرؓ بن خطاب نے ارشاد فرمایا تھا (حضرت عمرؓ نے فرمایا تھا ) کیا تم لوگ یہ بات نہیں جانتے کہ اللہ کے رسولﷺ نے حضرت ابو بکر ؓ کو آگے کیا تھا تاکہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائیں ! ان لوگوں نے(بنو ساعدہ کے انصار) نے کہا : اللہ جانتا ہے کہ ایسا ہی ہے ۔ تو حضرت عمر بن خطابؓ نے فرمایا : پھر تم میں کون اس بات کا خواہش مند ہوگا کہ وہ حضرت ابو بکرؓ سے آگے بڑھ جائے !(اور نبی کریمﷺ کی پسند کا انکار کرے ) تو ان لوگوں نے کہا ہم میں سے کوئی بھی اس بات کا خواہش مند نہیں ہوگا اور ہم اس بات سے اللہ تعالیٰ سے مغفرت طلب کرتے ہیں (کہ ہم خود کو یا کسی اور کو حضرت ابو بکر صدیقؓ کی ذات پر مقدم کریں [الشریعہ للآجری بغدادی برقم : 1198 سند کے رجال کا تعارف! پہلاراوی : العباس بْن علي بْن العباس بْن واضح بْن سوار بْن عبد الرحمن بْن عبد اللَّه يعرف بالنسا امام خطیب بغدادی انکے بارے فرماتے ہیں : وكان ثقة [تاريخ بغداد برقم : 6577 دوسرا راوی : مشرف بن سعيد، أَبُو زيد الواسطي، مولى سعيد بن الع امام خطیب بغدادی انکے بارے لکھتے ہیں وكان ثقة [تاریخ بغداد برقم: 7147 تیسرا راوی : أحمد بن داود، أبو سعيد الواسطيُّ، الحدَّ امام ذھبی انکی توثیق نقل کرتے ہوئے لکھتے ہیں وثقه ابن معين وقال ابن حبان: كان حافظا متقنا [تاریخ الاسلام برقم : 8 چوتھا راوی : محمد بن يزيد الكلاعي، أبو سعيد، ويقال: أبو يزيد، ويقال: أبو إسحاق الواس امام ذھبی انکی توثیق نقل کرتے ہوئے فرماتے ہیں الإمام، الزاهد، الحافظ، المجو قال وكيع: إن كان أحد من الأبدال، فهو محمد بن يزيد وقال أحمد بن حنبل: كان ثبتا في الحديث وقال يحيى بن معين، وأبو داود، والنسائي: ثقة امام وکیع کہتے ہیں اگر کوئی ابدال میں سے ایک ہے تو وہ محمد بن یزید ہی امام احمد ، امام یحییٰ بن معین ، امام ابو داود اور امام نسائی نے انکو ثقہ قرار دیا ہے [سیر اعلام النبلاء برقم : 88 پانچواں راوی : إسماعيل بن أبي خالد البجلي الأحم امام ذھبی انکی توثیق نقل کرتے ہوئے فرماتے ہیں الحافظ، الإمام الكبي وقال يحيى بن معين: ثقة وكذا وثقه: ابن مهدي، وجماعة قال يعقوب بن شيبة: ثقة، ثبت امام ابن معین ، ابن مھدی امام یعقوب بن شیبہ اور جماعت نے انکو ثقہ قرار دیا ہ [سیر اعلام النبلاء برقم : 83 نوٹ: یہ مدلس بھی تھے اور ابن حجر عسقلانی نے انکو طبقہ ثانیہ کا مدلس قرار دیا ہے جسکی معنعن روایت میں تدلیس بطور علت واقع نہیں ہوت ع إسماعيل بن أبي خالد المشهور الكوفي الثقة من صغار التابعين وصفه النسائي بالتدل المرتبة الثاني [الطبقات المدلسین برقم: 36 چھٹا راوی : زر بن حبيش بن حباشة بن أوس الأس یہ کبیر تابعی ہیں اور حضورﷺ کی زندگی میں ہی یہ پیدا ہوائے تھے اور دور جہالت میں نبی کریمﷺ کا دیدار کیا تھا خلفائے راشدین سمیت یہ حضرت عبداللہ بن مسعود کے تلامذہ میں شمار ہوتے ہیں امام ذھبی انکے بارے نقل کرتے ہیں الإمام، القدوة، أدرك أيام الجاهلية قال ابن سعد : كان ثقة، كثير الحدي قال إسحاق الكوسج: عن يحيى بن معين: زر ثق وحدث عن: عمر بن الخطاب، وأبي بن كعب، وعثمان، وعلي، وعبد الله، وعمار، والعباس، وعبد الرحمن بن عوف، وحذيفة بن اليمان، وصفوان بن عسال وقرأ على: ابن مسعود، وعلي [سیر اعلام النبلاء برقم : 60] اس تحقیق سے معلوم ہوا کہ حضرت عبداللہ بن مسعود سمیت جماعت صحابہؓ اور خلیفہ دوم حضرت عمر بن خطاب ؓ کا بھی استدلال اسی بات پر تھا جس پر آج اہلسنت (Ahle sünnet) قائم ہے کہ جب نبی کریم ﷺ نے اپنی آخری نماز میں اپنے خلیفہ حضرت ابو بکر صدیقؓ کو جماعت صحابہ کا امام بنا کر فیصلہ دکھا دیا تھا کہ اب میرے بعد امام ابو بکر ؓ ہی ہونگ اور یہ بات بھی ثابت ہوئی کہ جو ابن مسعود سے روایت ملتی ہے کہ مدینہ میں ہم لوگ حضرت علی کو سب سے بہتر سمجھتے تھے ، وہ روایت حضرت علی کے دور خلافت کی ہے یعنی پہلے تین خلفاء کی وفات (ölüm)کے بعد کی ہے -کیونکہ حضرت ابن مسعود خود حضرت عمر ؓ کے قول کے راوی ہیں وہ خلیفہ وقت کی اتباع کے خلاف کیسے بول سکتے ہیں __________ اس لیے یہی تطبیق (concurrence) ہی اولیٰ ہ اور حضرت ابن عمرؓ کا یہ فرمانا کہ ہم نبی کریمﷺ کی زندگی میں یہی حضرت ابو بکر ؓ کو تمام صحابہ سے افضل (superior) سمجھتے تھے - اس پر اجماع صحابہ (consensus of Sahaba) ہے- اور حضرت ابن عمر ؓ کی یہ بات اپنے والد خلیفہ دوم کے موافق تھ جس بات سےجماعت انصار(Ansar) اللہ سے مغفرت مانگتی تھی لیکن بدعتی ٹولہ آج کا تفضیلی اس موقف کو اپنا کر روافض کا چیلا بن کر ایک ٹانگ پر ناچتانظرآتا ہے
0 Comments