السلام وعلیکم و رحمۃ اللہ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان عظام اس مسئلے پر کہ زید پورا نشہ کرتا ہے اور جو اپنی بیوی ہندہ سے دور رہتا ہے اور نشے کی ہی حالت میں فون پر بکر سے کہتا ہے میں اپنی بیوی کو 25 بار طلاق دے چکا ہوں طلاق طلاق طلاق طلاق تو کیا طلاق ہو گیا یا نہیں رہنمائی فرمائیں کرم ہوگا
السائل: محمّد عالمگیر اطہر دمکا
------------------------------------------------------
وعلیکم السلام ورحمۃاللہ وبرکاتہ
الجواب بعون الملک الوھاب
اسلام میں نشہ آور چیزوں کا استعمال حرام اور گناہ کبیرہ ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
"يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِنَّمَا الْخَمْرُ وَالْمَيْسِرُ وَالْأَنْصَابُ وَالْأَزْلَامُ رِجْسٌ مِنْ عَمَلِ الشَّيْطَانِ فَاجْتَنِبُوهُ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ"، (سورۃ المائدہ: 90)
ترجمہ: "اے ایمان والو! شراب، جوا، بت اور پانسے ناپاک شیطانی کام ہیں، ان سے بچو تاکہ تم فلاح پا سکو۔"
البتہ نشہ کی حالت میں طلاق دینے سے طلاق واقع ہو جاتی ہے، جیسا کہ فتاویٰ ہندیہ میں ہے:
"طلاق السكران واقع إذا سكر من الخمر أو النبيذ، وهو مذهب أصحابنا رحمهم الله تعالى كذا في المحيط"، (فتاویٰ ہندیہ، جلد 1، کتاب الطلاق، الباب الأول، فصل فیمن یقع طلاقہ و فیمن لا یقع طلاقہ، ص: 353، ط: مکتبہ رشیدیہ)
صورتِ مسئولہ، اگر زید واقعی اپنی بیوی ہندہ کو فون پر 25 بار طلاق دیا ہے تو تین طلاق واقع ہو جائیں گی اور باقی 22 طلاق لغو ہو جائیں گی، کیونکہ شوہر اپنی زندگی میں تین ہی طلاق کا مالک ہوتا ہے۔
اب اگر زید ہندہ کو اپنے پاس رکھنا چاہتا ہے تو حلالہ شرعی کرائے، یعنی ہندہ عدت گزارنے کے بعد کسی اور مرد سے نکاح کر لے اور ازدواجی تعلق بھی قائم کرلے، پھر اس کے بعد شوہر کا انتقال ہو جائے یا وہ اتفاقی طور پر طلاق دے دے تو عدت گزارنے کے بعد وہ پہلے شوہر کے لیے حلال ہو جاتی ہے۔
اب اگر زید ہندہ کو اپنے پاس رکھنا چاہتا ہے تو حلالہ شرعی کرائے، یعنی ہندہ عدت گزارنے کے بعد کسی اور مرد سے نکاح کر لے اور ازدواجی تعلق بھی قائم کرلے، پھر اس کے بعد شوہر کا انتقال ہو جائے یا وہ اتفاقی طور پر طلاق دے دے تو عدت گزارنے کے بعد وہ پہلے شوہر کے لیے حلال ہو جاتی ہے۔
فتاویٰ عالمگیری میں ہے:
"وان کان الطلاق ثلاثا فی الحرۃ وثنتین فی الامة، لم تحل له حتی تنکح زوجا غیرہ نکاحا صحیحا، ویدخل بها، ثم یطلقها او یموت عنها"، (کتاب الطلاق، فصل فيما تحل به المطلقة وما يتصل به، ج:1، ص:473، ط: دار الفكر بيروت)
کتبہ اشرف الحسین، المتعلم، مخدوم اشرف مشن۔
0 Comments